عبادت کا مفہوم

عبادت کا مفہوم

عبادت کے لُغوی معانی

عبادت  عربی زبان کا لفظ ہے  جس کا مادہ   ع۔ب۔د ہے۔  عربی کی مستند لغات میں اس کے مندرجہ ذیل معا نی ملتے ہیں:

۱۔ کسی کی بندگی ، غلامی  یا خدمت گزاری کرنا

۲۔ کسی کا محکوم ہونا

۳۔ عاجزی اور انکساری کے ساتھ کسی کی اطاعت و تابع فرمانی کرنا یا احکام کی تعمیل کرنا

۴۔ عقیدت مندی اور تعظیم و تکریم کے ساتھ کسی کی پرستش، پُوجا یا  پرستاری کرنا

’’عبادت‘‘ کے مادہ  ’’عبد‘‘ کا بنیادی مفہوم کسی کی ’’بندگی، غلامی، خدمت گزاری یا محکومی   ‘‘  ہے جس میں انسان کسی کی برتری اور بالا دستی تسلیم کر کے  اُس کے سامنے اپنی آزادی اور خود مختاری سے دست بردار ہو جاتا ہے۔ چونکہ ایک غلام کا بنیادی کام   ادب و احترام کے ساتھ اپنےآقا کے احکام کی تعمیل ہوتا ہے، اس لئے مادۂِ ’’عبد ‘‘ میں ’’ اطاعت، تابع فرمانی اور احکام کی تعمیل‘‘ کا مفہوم بھی آ جاتا ہے۔  اِس کے ساتھ ساتھ اگر اِس میں  عقیدت کے نذرانے اور مراسمِ بندگی بھی شامل ہو جائیں تو بات ’’ پرستش ، پُوجا یا  پرستاری ‘‘ تک پہنچ جاتی ہے۔ اگر عقیدت کے نذرانے  اور مراسمِ بندگی بُتوں کو حاجت روا  جان کر پیش کئے جائیں تو  مادۂِ’’عبد ‘‘ کا مفہوم محض پرستش  اور پُوجا پاٹ تک محدود ہو جاتا ہے۔ قرآنِ مجید میں مادۂِ ’’ عبد‘‘ اوپر دیے گئے مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔

’’بندگی، غلامی اور خدمت گزاری‘‘

قرآن مجید کی سورۃ البقرہ میں  ایک جگہ’’عبدیت‘  ‘ کا  ذکر ’’حُرّیت‘‘ کے مقابلہ میں کیا گیا ہے۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِصَاصُ فِی الۡقَتۡلَیۡ ۖ اَلۡحُرُّ بِالۡحُرِّ وَالۡعَبۡدُ بِالۡعَبۡدِ وَالۡاُنۡثٰی بِالۡاُنۡثٰی ۚ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر مقتولوں کے بارہ میں قصاص فرض کیا گیا ہے‘ اگر (قاتل) آزاد (مرد) ہو تو اسی آزاد (قاتل سے) اور اگر (قاتل) غلام ہو تو اسی غلام (قاتل) سے اور اگر (قاتل) عورت ہو تو اسی عورت (قاتل) سے ۔ البقرہ ۲: ۱۷۸

مندرجہ بالا آیت میں اَلۡحُرُّ(آزاد) کا ذکراَلۡعَبۡدُ  (غلام) کے مقابلہ میں آیا ہے۔ ’’حُرّیت‘‘  کا مطلب آزادی  اور بِلا کسی روک ٹوک عمل کا اختیار اور قدرت  ہے۔ جبکہ ’’عبدیت‘‘ کا مطلب غلامی ، بندگی  اور احکام کی پابندی ہے۔

نُزولِ قرآن کے زمانے میں عربوں کے ہاں کام کاج اور خدمت گزاری کے لئے بہت زیادہ غلام موجود تھے۔ مندرجہ بالا آیت میں یہ حُکم دیا گیا ہے کہ اگر کسی آزاد شخص کے ہاتھوں کوئی قتل ہو جائے تو اسی آزادشخص سے اس کا قصاص لیا جائے ۔ اسی طرح اگر کسی غلام شخص کے ہاتھوں کوئی قتل ہو جائے تو اس کا  قصاص اس غلام شخص سے ہی لیا جائے ۔

سورۃ البقرہ کی آیت ۲۲۱ میں بھی ’’عَبْدٌ‘‘ کا لفظ ’’غلام‘‘ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ نیز ملاحظہ ہو  سورۃ النور ۲۴ آیت ۳۲۔

وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ ۚ وَلَأَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ ۗ وَلَا تُنكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا ۚ وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ ۗ

اور تم مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح مت کرو جب تک وہ مومن  نہ ہو جائیں، اور بیشک مومن لونڈی (آزاد) مشرک عورت سے بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلی ہی لگے، اور (مومن عورتوں کا) مشرک مردوں سے بھی نکاح نہ کرو جب تک وہ مومن نہ ہو جائیں، اور یقیناً مشرک مرد سے مؤمن غلام بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلا ہی لگے

سورۃ البقرہ  ۲آیت ۲۲۱

وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ

اور تم اپنے مردوں اور عورتوں میں سے ان کا نکاح کر دیا کرو جو (عمرِ نکاح کے باوجود) بغیر ازدواجی زندگی کے (رہ رہے) ہوں اور اپنے باصلاحیت غلاموں اور باندیوں کا بھی (نکاح کر دیا کرو)، اگر وہ محتاج ہوں گے (تو) اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا، اور اللہ بڑی وسعت والا بڑے علم والا ہے،

سورۃ النور ۲۴ آیت ۳۲

لفظِ’’  عَبْدًا‘‘ بمعنی ’’ بندہ ِٔ غلام  ‘‘ سورۃالنحل میں بھی آیا ہے۔

ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوكًا لَّا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَيْءٍ

“اللہ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے (کہ) ایک  بندہ ِٔ غلام ہے (جو کسی کی) ملکیت میں ہے(اور) جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔”

(سورۃالنحل  ۱۶آیت  ۷۵)

اپنے آقا کی خدمت گزاری پر مامور ایک بندۂِ غلام نہایت عاجزی اور انکساری سے اپنے آقا کی اطاعت و تابع فرمانی کرتا ہے۔ اس کا مقصد اپنے آقا کے نام یا اس کے بتائے ہوئے کام کو بار بار زبان سے دُہرا نا نہیں ہوا کرتابلکہ احکام کو بجا لانا ہوا کرتا ہے۔ لہٰذا اللہ کا ’’عبد‘‘ بننے یا اس کی ’’عبادت‘‘   کرنے  کا ایک مفہوم یہ ہےکہ  اس کی غلامی اور بندگی اختیار کی جائے اورزندگی کے تمام گوشوں میں اس کے  احکام کی پابندی کی جائے۔جیسے ایک بندۂِ غلام اپنے آقا کے احکام  کی بجا  آوری کرتا ہے۔

’’محکومیت و اطاعت ‘‘

سورۃ الشُعَرَآء میں مصر کے بادشاہ فرعون ا ورموسیٰؑ کے درمیان  دیے گئے ایک مکالمہ میں موسیٰؑ فرعون سے کہتے ہیں :

أَنْ عَبَّدتَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ

“کہ تم نے بنی اسرائیل کو اپنا  محکوم  بنا رکھا ہے۔”

( سورۃ الشُعَرَآء ۲۶ آیت ۲۲)

اسی طرح سورۃ المومنون میں فرعون اور اس کی قوم کے سردار موسیٰؑ اور ھارونؑ سے کہتے ہیں:

أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عَابِدُونَ

“کیا ہم اپنے جیسےدو بشر آدمیوں( موسیٰؑ اور ھارونؑ)  کی بات مان لیں جبکہ ان کی قوم  تو ہماری محکوم ہے۔”

(سورۃالمومنون  ۲۳آیت ۴۷ )

فرعون بادشاہِ  وقت تھا جس کے دور میں بنی اسرائیل اُس کےمحکوم تھے اور غلامی کی زندگی گزار رہے تھے۔ مندرجہ بالا آیت میں عَابِدُونَ سے مراد غلام، محکوم  ،خادِم،  اطاعت گزاراور تابع فرمان ہیں۔ جس سے  عبادت کا  مفہوم ، غلامی، محکومیت، اطاعت شعاری، یا تابع فرمانی  واضح  ہو جاتا ہے۔ سورۃ الکھف میں ’عبادت‘ اور ’محکومیت‘ دونوں تصورات ، شِرک کے تناظر میں دیے  گئے ہیں۔

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا۠ بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰہُکُمۡ اِلٰہٌ وّٰحِدٌ ۖ فَمَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلۡیَعۡمَلۡ عَمَلًا صٰلِحًا وَّلَا یُشۡرِکۡ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًۢا

کہو  (کہ) میں صرف تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں‘ (فرق صرف یہ ہے کہ) میری طرف (یہ) وحی (نازل) کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی (حقیقی) معبود ہے پس جو شخص اپنے رب سے ملنے کی امید رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نیک (اور مناسبِ حال) کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔

(سورۃالکھف ۱۸ آیت 110)

قُلِ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثُوۡا ۖ لَہٗ غَیۡبُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ۖ اَبۡصِرۡ بِہٖ وَاَسۡمِعۡ ۚ مَا لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّلَا یُشۡرِکُ فِیۡ حُکۡمِہٖۤ اَحَدًا

کہو(کہ) جتنا (عرصہ غار میں) وہ ٹھہرے رہے اسے اللہ (ہی) بہتر جانتا ہے۔ آسمانوں اور زمین کا غیب اسی کے لئے ہے وہ خوب ہی دیکھنے والا اور خوب ہی سننے والا ہے۔ ان (لوگوں) کا اس کے سوا کوئی بھی مددگار نہیں ہے اور وہ اپنے حکم میں کسی کو (اپنا) شریک نہیں بناتا۔

(سورۃالکھف ۱۸ آیت 26)

حکم کا اختیار یا حقِ حکومت صرف اللہ کو حاصل ہے۔ دین الاِسلام کا بنیادی مقصد یہ کہ انسان نہ صرف بے جان بُتوں کی پرستش کی جہالت سے باز  آ جائیں بلکہ ایک انسان دوسرے انسانوں کی غلامی سے بھی باہر نکل آئے چاہے یہ غلامی انفرادی طور پر ہو یا   اللہ کی نازل کردہ کتاب سے ماورا انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کی  انسانوں پر حکومت  کی صورت میں ہو۔

إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّـهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

حکم کا اختیار صرف اﷲ کو ہے، اسی نے حکم فرمایا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، یہی درست دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،

سورۃ یوسف ۱۲ آیت ۴۰

’’احکام کی تعمیل ‘‘

قرآن مجید میں اللہ کے کرم یافتہ  بندوں  (عِبَادٌ) کی ایک  اہم صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اللہ کےامر کے مطابق عمل کرتے ہیں  (بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ) ۔

وَقَالُوا  اتَّخَذَ  الرَّحۡمٰنُ  وَلَدًا  ۗ  سُبۡحٰنَہٗ  ۚ  بَلۡ  عِبَادٌ  مُّکۡرَمُوۡنَ، لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ

اور (یہ لوگ) کہتے ہیں کہ رحمٰن نے بیٹا بنا لیا ہے (ان کی بات درست نہیں) وہ تو ہر کمزوری سے پاک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ (جن کو یہ بیٹا کہتے ہیں) وہ  کرم یافتہ بندے ہیں جو قول میں اس سے آگے نہیں بڑھتے اور وہ اس کے امر کے مطابق عمل کرتے ہیں۔

سورۃ الانبیا  ۲۱آیت ۲۷ ۔۲۸

مندرجہ بالا آیت  میں عِبَادٌ سے مراد  حُکم کے غلام بندے ہیں جو  ہرحُکم کی تعمیل کرتے ہیں، جس سے عبادت کا مفہوم ’’احکام  کی تعمیل ‘‘واضح ہو جاتا ہے۔

کسی بشر کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ انسانوں سے کہے کہ ’تم میرے عِبَادٌ      (یعنی میرے ذاتی حُکم کے غلام بندے)بن جاؤ‘۔

مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِّي مِن دُونِ اللَّهِ وَلَٰكِن كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ

کسی بشر کو یہ حق نہیں کہ اﷲ اسے کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائے پھر وہ لوگوں سے یہ کہنے لگے کہ تم اﷲ کو چھوڑ کر میرے  ’عباد‘  ( یعنی  میرے ذاتی حُکم کے غلام بندے ) بن جاؤ بلکہ (وہ تو یہ کہے گا) تم اﷲ والے بن جاؤ اس (اللہ کی) کتاب کے مطابق جسے تم سکھاتے  اور سیکھتے ہو۔

سورۃ آلِ عمران ۳ آیت ۷۹

’’پرستش‘‘

قرآن مجید میں  ’عبادت‘ کا لفظ  بُتوں کی ’پرستش‘ کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔

وَاتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ اِبۡرٰہِیۡمَ، اِذۡ قَالَ لِاَبِیۡہِ وَقَوۡمِہٖ مَا تَعۡبُدُوۡنَ،قَالُوۡا نَعۡبُدُ اَصۡنَامًا فَنَظَلُّ لَہَا عٰکِفِیۡنَ

اور ان کو ابراہیم کا واقعہ پڑھ کر سناؤ۔جب اس نے اپنے باپ اور اس کی قوم سے کہا تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو؟انہوں نے کہا ہم بتوں کی  عبادت ( یعنی پرستش) کرتے ہیں اور انہی کی سیوا میں لگے رہتے ہیں۔

سورة الشُّعَرَاء  ۲۶ آیت  ۶۹۔۷۱

بُتوں نے نہ ہی انسانوں کی طرف کوئی کتابِ ہدایت نازل کر رکھی  ہوتی ہے نہ ہی کوئی احکام و قوانین وضع کر رکھے  ہوتے ہیں۔ لہٰذا بُتوں کی عبادت  کا مفہوم پُوجا پاٹ اور انہیں حاجت روا سمجھ کراُن کو پکارنے اور ان کے لئے  سیوا کی رسومات کرنے  سے بڑھ کر کُچھ نہیں ہوتا۔  اِس کے بر عکس اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لئے ایک مکمل ضابطہِ قوانین و احکام دے رکھا ہے۔  چنانچہ اللہ کی عبادت کا مفہوم پُوجا پاٹ اور رسومات سے بڑھ کر  اس کے قوانین و احکام کی کامل اطاعت اور تعمیل  ہوتاہے۔ جیسے ایک غلام اپنے آقا کی مکمل تابع فرمانی کرنے کے لئے ما مور ہوتا ہے۔

اللہ کے احکام  کی اطا عت  و تعمیل   کے دائرہ میں فقط نماز ، روزہ، حج، زکاۃ وغیرہ شامل نہیں بلکہ  اُس نے  ہر گوشۂ حیات کے سلسلہ میں تمام          معا ملاتِ زندگی کے لئے جو جو احکامات دیے ہیں ان کی کامل اطاعت و تعمیل بھی عبادت کے مفہوم میں شامل ہے۔ مثلاً  

اگر اللہ نے کہا ہے   :    وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ (اور صلاۃ قائم کرو اور زکاۃ ادا کرو)(۲:۴۳):   تو  اِس حُکم پر عمل کرنا  بھی  اللہ کی عبادت  ( یعنی بندگی، اطاعت اور فرمانبرداری) ہے۔

اگر اللہ نے کہا ہے   :    أَحْسِنُوا ۛ (اچھے کام کیا کرو)(۲:۱۹۵):   تو  اِس حُکم پر عمل کرنا  بھی  اللہ کی عبادت  ( یعنی بندگی، اطاعت اور فرمانبرداری) ہے۔

اگر اللہ نے کہا ہے   :    وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًاۛ (صاف، سیدھی کھری بات کیا کرو)(۳۳:۷۰):   تو  اِس حُکم پر عمل کرنا  بھی  اللہ کی عبادت  ( یعنی بندگی، اطاعت اور فرمانبرداری) ہے۔

اگر اللہ نے کہا ہے   :    وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِۛ (جھوٹی اور بناوٹی باتوں سے اجتناب کیا کرو)(۲۲:۳۰):   تو  اِس حُکم پر عمل کرنا  بھی  اللہ کی عبادت  ( یعنی بندگی، اطاعت اور فرمانبرداری) ہے۔

اگر اللہ نے کہا ہے   :    وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِۛ (ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پُورا کیا کرو)(۶:۱۵۲):   تو  اِس حُکم پر عمل کرنا  بھی  اللہ کی عبادت  ( یعنی بندگی، اطاعت اور فرمانبرداری) ہے۔

اگر اللہ نے کہا ہے   :    وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ ۛ (ایک دوسرے کا مال آپس میں نا حق نہ کھایا کرو)(۲:۱۸۸):   تو  اِس حُکم پر عمل کرنا  بھی  اللہ کی عبادت  ( یعنی بندگی، اطاعت اور فرمانبرداری) ہے۔

اگر اللہ نے کہا ہے   :    وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًاۛ (ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو)(۴۹:۱۲):   تو  اِس حُکم پر عمل کرنا  بھی  اللہ کی عبادت  ( یعنی بندگی، اطاعت اور فرمانبرداری) ہے۔

اگر اللہ نے کہا ہے   :    وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْۛ (اور والدین کے ساتھ احسان کیا کرو اور رشتہ داروں کے ساتھ اور یتیموں کے ساتھ اور مساکین کے ساتھ اور قریبی ہمسایوں کے ساتھ اور (دُور کے) اجنبی ہمسایوں کے ساتھ اور پاس بیٹھنے والوں کے ساتھ اور مسافروں کے ساتھ اور اپنے ماتحت ملازمین کے ساتھ۔)(۴:۳۶):   تو  اِس حُکم پر عمل کرنا  بھی  اللہ کی عبادت  ( یعنی بندگی، اطاعت اور فرمانبرداری) ہے۔

اگر اللہ نے کہا ہے   :    وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِۛ (اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو۔)(۴:۵۸):   تو  اِس حُکم پر عمل کرنا  بھی  اللہ کی عبادت  ( یعنی بندگی، اطاعت اور فرمانبرداری) ہے۔

اگر اللہ نے کہا ہے   :    لَا تَأْكُلُوا الرِّبَاۛ (سُود مت کھایا کرو)(۳:۱۳۰):   تو  اِس حُکم پر عمل کرنا  بھی  اللہ کی عبادت  ( یعنی بندگی، اطاعت اور فرمانبرداری) ہے۔

اگر اللہ نے کہا ہے   :    وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًاۛ (اور کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا- بے شک یہ بڑی بے حیائی اور نہایت ہی بُری روش ہے۔)(۱۷:۳۳):   تو  اِس حُکم پر عمل کرنا  بھی  اللہ کی عبادت  ( یعنی بندگی، اطاعت اور فرمانبرداری) ہے۔

اگر اللہ نے کہا ہے   :    اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ ۛ (اے لوگو!) تم اس (قرآن) کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف اتارا گیا ہے اور اس کے علاوہ اولیاء کے پیچھے مت چلو۔)(۷:۳):   تو  اِس حُکم پر عمل کرنا  بھی  اللہ کی عبادت  ( یعنی بندگی، اطاعت اور فرمانبرداری) ہے۔

 الغرض یہ کہ اللہ تعالیٰ نے  ہر گوشۂ حیات کے سلسلے میں تمام معا ملاتِ زندگی کے لئے جو جو احکامات دیے ہیں ان کی کامل اطاعت و تعمیل بھی عبادت کے مفہوم میں شامل ہے۔

کچھ لوگ ’عبادات‘ اور ’معاملات ‘ کو الگ تھلگ خانوں میں رکھ کر دیکھتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے  معاملات کو اللہ کے احکام و قوانین کے مطابق چلانا بھی  اللہ کی  عبادت  ( یعنی بندگی، اطاعت اور فرمانبرداری)   میں شامل ہے ۔

اللہ کی عبادت کا مقصد

اللہ کے احکام کی تعمیل سے اللہ کا کوئی رُکا ہوا کام مکمل نہیں ہوتا بلکہ اس کے احکام و ہدایات پر عمل کرنے سے انسان  سفرِ زندگی کی خار دار گھاٹیوں سے بحفاظت  منزلِ حیات پر پہنچ جاتا ہے، جسے تقوی کہتے ہیں۔ چنانچہ سورۃ البقرہ میں اللہ کی عبادت کا  ایک مقصد   تقوی دیا گیا ہے۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو (بھی) جو تم سے پیشتر تھے تاکہ تمہیں تقوی مِل جائے (یعنی تم سفرِزندگی کی خار دار  گھا ٹیوں سے بحفاظت ،منزلِ حیات پر پہنچ جاؤ)۔

سورۃ البقرہ ۲ آیت ۲۱

اِس کے علاوہ اللہ کی عبادت  یعنی اس کے احکام و قوانین کی مکمل اطاعت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان  فلاح پا جائے۔  چنانچہ سورۃ الحج میں ہے کہ۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اے ایمان والو! تم رکوع کرتے رہو اور سجود کرتے رہو، اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو اور  نیک کام کئے جاؤ تاکہ تم فلاح پا سکو،

سورۃ الحج ۲۲ آیت ۷۷

 مندرجہ بالا آیت میں ’’ عبادت ‘‘ کا    ذکر ،   ’’رکوع و سجود‘‘ سے  منفرد اور الگ  کیا گیا  ہے۔

زمانہِ نزولِ قرآن میں عرب ’’عَبَّدَ۔ تَعْبِیْدٌ‘‘ کے الفاظ  اُونٹ یا گھوڑے کو سُدھا کر جوتنے کے قابل بنانے کے لئے بھی استعمال کرتے تھے، تَعْبِیْدٌ  کا مقصد یہ تھا کہ اُونٹ یا گھوڑے کی قوتوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر منفعت بخش کاموں کے لئے استعمال کیا جا سکے۔  لہٰذا اللہ کی عبادت کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ اللہ کے احکام کی تعمیل کے ذریعے، انسان کی قوتیں اور صلاحیتیں، سرکش و بے باک ہونے کی بجائے، بروئے کار آئیں  اور  ایک سُدھائے ہوئے اُونٹ یا گھوڑے کی مانند ، منفعت بخش نتائج  اور فلاح کا باعث بنیں۔

اللہ اپنی عبادت کا بِلا شرکتِ غیرے حُکم دیتا ہے۔

وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ

اور تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ

سورۃ النسا   ٔ ۴ آیت ۳۶

إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّـهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ

بے شک ہم نے آپ کی طرف (یہ) کتاب حق کے ساتھ نازل کی ہے  پس آپ اﷲ کی عبادت اس کے لئے طاعت و بندگی کو خالص رکھتے ہوئے کیا کریں،

سورۃ الزمر ۳۹ آیت ۲

مندرجہ بالا آیت میں اپنی نازل کردہ کتاب کا ذکر کرنے کے فوراً بعد  اللہ نے فرمایا ہے کہ پس آپ اللہ کی عبادت اس کے لئے اطاعت اور بندگی کو خالص رکھتے ہوئے  کیاکریں۔ چونکہ اللہ  کی اطاعت و بندگی اُس کی کتاب میں دئیے گئے احکامات و قوانین کے ذریعے سے ہی ہو سکتی  ہے اِس لئے عبادت کو کتابُ اللہ کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔

اللہ کی عبادت ، تمام غیر خدائی قوتوں (طاغوت)  اور شیطا ن کی پیروی  و پرستش سے مکمل اجتناب کے ساتھ۔

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ۖ

اور بیشک ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ (لوگو) تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت (یعنی تمام غیر خدائی قوتوں کی اطاعت و پرستش) سے  مکمل اجتناب کرو

سورۃ النحل ۱۶ آیت ۳۶

طاغوت  کے مفہوم میں  وہ تمام صا حبِ اختیار و اقتدار، رہنما اور پیشوا شامل ہیں جن کی تعلیمات اور احکامات اللہ کے احکام کے منافی ہوں۔

اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ

انہوں نے اللہ کے سوا اپنے علما اور مشائخ  کو رب بنا لیا تھا اور مریم کے بیٹے مسیح (علیہ السلام) کو (بھی) حالانکہ انہیں بجز اس کے (کوئی) حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اکیلے ایک (ہی) معبود کی عبادت کریں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ان سے پاک ہے جنہیں یہ شریک ٹھہراتے ہیں،

سورۃ التوبہ ۹ آیت ۳۱

أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ ۖ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ﴿٦٠﴾ وَأَنِ اعْبُدُونِي ۚ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ

اے بنی آدم! کیا میں نے تم سے اس بات کا عہد نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت (یعنی پرستش ، اطاعت یا  پیروی)  نہ کرنا، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، اور یہ کہ میری عبادت  کرتے رہنا، یہی سیدھا راستہ ہے،

سورۃ  یس ۳۶ آیت ۶۰۔۶۱

اللہ  تعالیٰ نے انسانوں کو اپنے سِوا کسی کی عبادت (بندگی، غلامی یا پرستش) کے لئے پیدا ہی نہیں کیا۔ اُس کا فرمان ہے کہ

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ

اور میں نے جن و انسں کو پیدا ہی فقظ اپنی عبادت  کے لئے کیا ہے۔

سورۃ الذاریات ۵۱ آیت ۵۶

’’عبادت‘‘ ہر معانی میں صرف اور صرف اللہ ہی کے لئے ہے،  چاہے اِس سے مراد  پرستش ، تسبیح وتحمید، دعاو مناجات، رکوع و سجود، نذر و  نیاز لئے جائیں اور چاہے اِس سے مُراد بندگی، غلامی، اطاعت، فرمانبرداری اور محکومیت لئے جائیں۔  تا ہم یہ جاننا ضروری ہے کہ اللہ کو ہماری   پرستش ، تسبیح وتحمید، دعاو مناجات، رکوع و سجود، نذر و  نیاز کی ضرورت نہیں بلکہ ہمیں اُس کی  نازل کردہ کتاب کی روشنی میں  اُس کی بندگی، غلامی، اطاعت، فرمانبرداری اور محکومیت کی ضرورت ہیں تا کہ ہم سفرِ زندگی کی خار دار راہوں سے بحفاظت منزلِ حیات پر پہنچ جائیں اور فلاح پا جائیں۔

إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ

اگر تم اور وہ لوگ   جو زمین میں ہیں  سب کے سب  بھی کفر کرنے لگ جائیں تو بیشک اللہ (ان سب سے) یقیناً بے نیاز لائقِ حمد و ثنا ہے،

سورۃ  اِبراھیم ۱۴ آیت ۸

Leave a Reply